ٹیلی فون

ٹیلی فون رحمت یا زحمت

مصنفہ: عافیہ رحمت
ٹیلی فون بہت بڑی رحمت ہے اور بہت بڑی زحمت بھی۔اس بات کا اندازہ لگانے کے لئے میں آپ کو ایک واقعہ سناتی ہوں۔


ایک دفعہ ہمارے اسکول کی چھٹی تھی موسم سہانا تھااور مزاج بھی ٹھندا تھا۔ہم نے سوچا کہا آج کیوں نہ باورچی خانہ کو اپنی آمد کی خبر سنائیں یعنی کوئی مزے دار چیز بنائیں جو ہمیشہ یادگار رہے۔
میں نے جب کیلنڈرپر نظر دوڑائی تو مجھے تاریخ کا علم ہوا۔تاریخ کا علم ہوتے ہی ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہی کیوں کہ آج ہمارے لاڈلے بھائی جان کی سالگرہ تھی! ہمارے بھائی جان ذرا نخرے والے ہیں۔ کھانے میں نخرے دکھاناتو اُن کی بچپن کی عادت تھی اور تعریف کا ایک لفظ بھی اُن کی زبان پر نہیں آتا تھاتو اسی وجہ سے ہم نے سوچاکہ آج کوئی ایسی چیز بنانی چاہیے کہ جس کی تعریف ان کو کرنی ہی پڑجائے۔پہلے پہل سوچا کہ ”قورمہ“ پکایا جائے۔لیکن بھئی ہم تو بہت سہل پسند واقع ہوئے ہیں اور اتنی محنت ہماری نازک طبیعت پر سخت گراں گزری چنانچہ”بریانی“ بنانے کا خیال آیا۔لیکن چاول تو بھئی ہمیں بچپن سے ہی گیلے کھانے کے عادی ہیں۔
ان سب چیزوں کو چھوڑ کر ہم نے کیک بنانے کی ٹھانی۔ بڑی مشکل سے ایک ترکیب ہاتھ آئی۔اُس کے اجزاء پڑھتے ہی معلوم ہوا کہ صرف چینی ہمارے شریف باورچی خانے میں موجود ہے۔پھر خیال آیا کہ تمام اجزاء بھائی جان سے منگوائے جائیں اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ہمارے بھائی جان بہت نخرے والے ہیں اور بغیر معاوضے کے کوئی کام نہیں کرتے۔لیکن جب ہم نے اُن سے کہا کہ یہ چیزیں بہت سستی ہیں اور باآسانی مل جائیں گی۔تو وہ رضا مند ہوگئے۔
……٭……٭……٭……
تقریباً دوگھنٹی بعدجب وہ واپس آئے تو اُن کی حالت غایب دماغ پروفیسر کی سی لگ رہی تھی۔ہم نے دل تھام کر پوچھا:بھائی جان!”خیریت تو ہے“۔ہمارا یہ کہنا تھا کہ وہ پھٹ پڑے اور کہا:”یہ چیزیں بہت بہت۔۔۔۔۔۔ آسانی سے مل گئیں تھیں اور بہت بہت سستی تھیں“۔خیر ہم نے اُن کے ڈوبتے دل کو سہارا دیا کہ آپ کی محنت رایگانہیں جائے گی اور کیک انتہائی مزے دار ہوگا۔
ہم نے تمام کام انتہائی جاں فشانی سے سرانجام دئے اور ابھی ہم اسے اووّن(oven)میں رکھنے ہی والے تھے کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ہم نے اُسے نظرانداز کر کے کیک کو اووّن(oven)میں رکھا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بری طرح سے چیخی۔ہم نے دل میں موصوف کو بہت کوسا اور سوچا”رانگ نمبر“(wrong number)کہہ کر بند کر دیں گے۔
رسیور اُٹھایا تو ہمیں پتاچلا کہ ہماری جگری سہیلی کا برسوں بعد لاہور سے فون آیا ہے اُس کا نام سنتے ہی ہم دنیاومافیا سے بے خبرباتوں میں مصروف ہو گئے۔تھوڑی دیر بعد ایک لمحے کے لئے کیک کا خیال آیا جسے اووّن(oven)میں رکھنے کے بعد ہم بھول ہی گئے تھے،لیکن پھر سر جھٹک کر اور دروازے کی کنڈی لگا کرباتیں کرنے لگے اور باتوں کا ایک طویل سلسلہ چھڑ گیا۔
ابھی ہمیں باتیں کرتے ہوئے صرف دو گھنٹے ہوئے تھے کہ”امّی کے چیخنے کی آوازیں آنے لگیں“لیکن ہم اسے بھی نظرآنداز کرتے ہوئے زوروشور سے اپنی سہیلی کی باتوں میں مگن رہے۔(اور اپنی باتوں میں بھی)


جب ہمارے دروازے پر شدید قسم کی گولہ باری شروع ہوگئی۔اور اس گولہ باری سے ہمیں کیک کا خیال آیا۔ہم نے چندلفظوں میں اپنی سہیلی کو حالات کی نزاکت سے روشناس کرایااور خدا حافظ کر کے سلامتی کی دعا کرنے لگے کیونکہ گولہ باری شدت اختیار کر چکی تھی۔ ہم دروازہ کھول کر بستر پر دم سادھے نیم مردہ حالت میں لیٹ گئے(وہ تو شکر ہے ہماے کمرے کا ا دروازہ اندر کے بجائے باہرکو کھلتا تھا)۔تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور بھائی جان شدید غصے کی حالت میں برآمد ہوئے۔ہمارے جسم کا سارا خون خشک ہو چکا تھا اور چہرا سفیدجبکہ بھائی جان کا چہرہ آگ بگولا ہوا ہوا تھا۔اُس کے بعد بھائی جان نے ہماری جو درگت بنائی اُس کو اگر ہم راز ہی رکھیں تو اچھا ہے۔


اہم بات:- یہ کہانی میں نے خود تحریرکی ہے اور اس کا ایک ایک جملہ میرے پاس موجود ہے۔اس کی نقل بنانایابنوانا،اپنے نام سے چھاپنایاچھپوانا ،عنوان تبدیل کر کے چھاپنایاچھپوانا یا پھر ایسی کوئی ناجایز حرکت کرنا قانوناً و قطعاً جایز نہیں۔(عافیہ رحمت)

محاسبہ

مصنفہ :عافیہ رحمت

ارے۔۔۔۔۔۔ ارے بھئی!ٹھہرئیے! یہ کیا ،عنوان پڑھا اور برا سا منہ بنا کر آگے بڑھ گئے کہ یقیناًایک تدریسی کہانی ہو گی۔ نہیں بھئی ہمیں تونصیحتیں اور پرانے وقتوں کی باتوں سے سخت چڑ ہے اور جب اِس چیز سے ہمیں خودبوریت ہوتی ہے، تو پھرہم اپنے ننھے منے ساتھیوں کو کیوں بور کرنا چاہیں گے!!!!
پیارے بچو! یہ کہانی ذرا غور سے پڑھئے گا۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اس اپنی ذندگی بنا سکیں۔ کہیں آپ بور تو نہیں ہو رہے؟ چلیں ہم آپ کا مزاج اچھا کرنے کے لیئے پُر لطف مگر سبق آموز واقعہ سناتے ہیں ۔


ہوا یوں کہ چند دنوں پہلے ہمارے پڑوسیوں کے ہاں میت ہو گئی۔سارے محلے والے اُن کے غم میں شر یک تھے اور ہمارے پڑوسی بیچارے اس گم میں نڈھال ہوئے جا رہے تھے۔میت اُٹھنے سے ایک گھنٹے قبل ایک معزز خاتون نے درس دیا۔
در س تو ہم نے غور سے سنا اور تمام باتیں بھی اچھی لگیں لیکن ایک خلش سی دل میں تھی کہ’’ ’’ مُحَاسِبَہْ ‘‘کیا چیز انہوں(معزز خاتون جنہوں نے میت کے اُٹھنے سے ایک گھنٹہ قبل درس دیا)نے کہا تھا : ’’ جس نے محاسبہ کیا اُس نے فلاح پائی‘‘۔
جب دو، تین دن گزر گئے اور ہمارے دل کو قرار نہ آیا تو جا کر دادی امّاں سے پوچھ بیٹھے کہ’’’’محاسبہ‘‘ کیا ہے اور یہ کس طرح کرتے ہیں‘‘؟دادی امّاں نے سروتے سے چھالیا کترتے ہوئے کہا: ارے بیٹا ! ہماری تو زندگی گزر گئی اور اب توزندگی کے بس چند روز رہتے ہیں ۔ ’’ ہم کیا ’’ محاسبہ ‘‘ کریں ‘‘ ۔دادی امّاں تو جیسے یہ کہہ کر اپنے فرض سے سبکدوش ہوگئیں لیکن ہمارے دل کو ذراقرار نہیں آیا۔ سوچا کہ کیوں ناں اپنے زہین و فطین بھائی جان سے پوچھا جائے ، جن کی قابلیت کا پورے خاندان میں چرچا ہے ۔
جب ہم نے اُن کے کمرے میں جھانکاتو وہ اپنی چھوٹی سی اپنی گول مٹول آنکھ محدب عدسہ لگائے اُپر کی طرف دیکھ رہے تھے اور کسی گہری سوچ میں غلطاں تھے،ہاتھ میں قلم تھا اورمیز پر کاپی کتابیں بکھری پڑی ہوئی تھیں۔ اُن کی یہ حالت دیکھ کر ہمیں ایک شرارت سوجھی اور ہم نے آہستہ سے ان کے پاس جاکرمسکراتے ہوئے پوچھا: بھائی جان! کیا پنکھے میں اپنے گناہوں کا تجزیہ کر رہے ہیں؟ وہ گڑبڑا گئے اور ذرا غصے سے گویا ہوئے کہ آپ کے ساتھ کاکیا مسلہ درپیش ہے ؟
پہلے پہل تو ہم بڑے ذور کا سہمے لیکن پھر بڑی بے باکی سے اپنا مدعا اُنہیں کہہ سنایا۔’’ہمارا سوال سن کر و ہغصے میں دوبارہ گویا ہوئے:جاؤ جاکر امّی سے پوچھو وہ ہی تمہیں بہتر طریقے سے سمجھائیں گی ‘‘ ۔اِن کا جواب سن کر ہم تو سمجھے شاید بہت خوفناک چیز ہے ، جس نے بھائی جان کا فیوز ہی اُڑا دیا ۔
رات ہم نے پیار سے امّی کے گلے میں بانہیں ڈال کر اُنہیں بھی یہ بات سنائی۔ امّی نے شفقت بھری نظر ہم پر ڈالی پھر کہا:’’بیٹا ! لفظ’’ مُحاسبہ‘‘ حساب سے نکلا ہے اور شریعت کی اصطلاح میں اِس لفظ کے معنی ہیں کہ اپنے روزِمرہ کے کاموں کا جائیزہ لینا ، جیسے:ہم نے کتنی نمازیں پڑھیں ؟ امّی ابو کا کہنا مانا ؟اور جھوٹ و چغلی جیسا کوئی گناہ تو نہیں کیا؟ اِس طرح اپنے دن بھر کے اعمالوں کی جانچ پڑتال کرنا اور اُن کی اصلاح کرنا محاسبہ کہلاتا ہے ‘‘۔ امی نے اپنی بات ختم کر کے سیدھے ہاتھ پر کروٹ لی اور ہمیں سونے کی ہدایت کر کے سوگئیں۔


پیارے ساتھیو!آپ بھی اپنا’’ مُحاسبہ ‘‘ ضرور کیا کریں ، یقیناًآپ اپنی ذندگی میں تبدیلی محسوس کریں گے۔ اور ’’محاسبہ ‘‘ کو اپنی عادت بنالیں کہیں یہ مکافات عمل کی دنیا ختم نہ ہو جائے۔

(ختم شد)


اہم بات:- یہ کہانی میں نے خود تحریرکی ہے اور اس کا ایک ایک جملہ میرے پاس موجود ہے۔اس کی نقل بنانایابنوانا،اپنے نام سے چھاپنایاچھپوانا ،عنوان تبدیل کر کے چھاپنایاچھپوانا یا پھر ایسی کوئی ناجایز حرکت کرنا قانوناً و قطعاً جایز نہیں۔(عافیہ رحمت)

خوبصورت

مصنفہ: عافیہ رحمت

’’تمہارے ہاتھ بہت پیارے ہیں‘‘ نائمہ نے محبت سے ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا ۔ شہیر اس وقت انڈہ تل رہا تھا۔ انڈہ باربارتو ے پرچپک جاتاوہ پہلے بھی بہت دفعہ انڈہ تل چکاتھا مگر آج ہی اس قدر عجیب ٹوٹا پھو ٹا انڈہ تل کے وہ پلیٹ میں نکال پایا ۔ اس والے انڈے نے شہیر کو قدرے غیر مطمین کیا تھا ۔وہ خود سے ہی دوسرا انڈہ تلنے لگا ۔ میز پر سجے ہلکے براؤن ٹوسٹ (light brown toast)اور نمک کالی مرچ سے ڈھکے انڈے کا ناشتہ نائمہ کی اشتہا بڑھا رہا تھا ۔ وہ خا موشی سے ناشتے میں مگن ہوگئی۔تھوڑی دیر میں وہ گرم گرم چاے کے دو کپ اور ایک خوبصورت سفیدی اور انڈے کے ساتھ سجا ہوا انڈہ لے کر میز پر موجو تھا ۔ جی !توکیا فرمایا آپ نے، شہیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔کیا۔۔۔ کہا تھا میں نے( نائمہ تو بھول ہی گئی تھی)۔ویسے معذرت آپ کاانڈہ اچھا نہیں بن سکا۔شہیر اس کے انڈے کے حال کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔ ارے۔۔۔ نہیں، مجھے ایسا ہی انڈہ زیادہ مزے کا لگتا ہے۔ثابت زردی کا انڈہ مجھے اچھا نہیں لگتا۔نائمہ نے دل سے اس کو سراہا تھا۔آپ کچھ فرما رہی تھیں ہاتھوں کے بارے میں شہیر نے یاد دلایا۔’’ آں۔۔۔ہاں شہیر تمھارے ہاتھ بہت پیارے ہیں‘‘۔نائمہ نے دوبارہ جملہ دہرایا۔شہئر نے اپنے دونوں ہاتھ میز پر پھیلا دئے۔غورسے دیکھو تو، کیا تم سچ کہہ رہی ہو یا مزاق اڑا رہی ہو۔میز پر شہیر نے اپنے جلے ہوئے ہاتھ پھیلا دئے تھے۔کہیں کہیں سے سلوٹ زدہ اور بے ہنگم ہاتھ میزپر اس کے سامنے تھے۔ بچپن میں اس کے دونوں ہاتھ جل گئے تھے اور بہت بری طرح کھال متاثر ہوئی تھی۔ ڈاکٹرز نے بہت محنت کی تو وہ بس اتنا ٹھیک ہوا تھا کہ کام کر سکے۔پھر بھی کافی سخت کھال تھی۔ جو بمشکل کھینچتی (stretch)تھی۔نائمہ کی آنکھوں میں نمی تیر گئی۔شہیر۔۔۔اس نے اپنے پیارے سے چھوٹے بھائی کے ہاتھوں کو اٹھایا اور پیار کرنے لگی۔ہاتھ وہ خوبصورت نہیں ہوتے جو سفید کھال والے اور نرم و نازک ہوں۔۔۔۔پاگل لڑکے! نائمہ کو تھوڑا غصہ بھی آرہا تھا ۔ وہ ہمیشہ ہی خود کو ایسا نامکمل تصّور کرتا تھا ۔ تم نے آج صبح مجھے ا ٹھایا ۔میرے سر میں درد تھا ۔بخار بھی ہو رہا تھا ۔ تم نے خود سے ناشتہ بنایا ۔کیا عمر ہے تمہاری۱۳ یا۱۴ سال کے تو ہو۔۔۔۔۔اتنی سی عمر میں تم اتنے سمجھدار، اتنے پیارے، چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے میرے ڈھیروں کام کر دیتے ہواو رمیرا اتنا خیال رکھتے ہو۔اس کی باتوں سے شہیرکو بہت اچھا لگتا تھا ۔اچھا اچھا میری پیاری آپی ۔۔۔اب جلدی سے اس بخار کو دور بھگایں تا کہ ہمیں دوپہر کااچھا کھانا مل سکے۔ شہیر مسکرانے لگا تھا۔ شہیر!خوبصورتی انسان کے اندر ہوتی ہے۔’’جو لوگ اندر سے بدصورت ہوں باہر سے کتنے ہی اچھے دکھائی دیں۔۔۔۔۔ اچھے نہیں لگتے‘‘۔سمجھے!!! جی آپی میں سمجھ گیا۔اب  چلو اسکول کا کام نکالو۔


شہیر اور نائمہ والدہ کے انتقال کے بعد بہت بدل گئے تھے۔انتہائی شرارتی شہیر اب کافی سنجیدہ ہو چکا تھا۔نائمہ نے بھی وقت سے پہلے باورچی خانہ اور گھر کی ذمہ د اری سنبھال لی تھی۔دونوں ہی ایک دوسرے کے غم گساربھی تھے اور دوست بھی تھے۔ ساتھ مل کر کھیلتے،لڑتے اور پھر دوست بھی بن جاتے۔وقت بہت خوبصورتی کے ساتھ رواں دواں تھا ۔


کیا ہو رہا ہے بھئی۔۔۔؟؟ سلیم صاحب اتوار کی صبح بچوں کے ساتھ ہوتے توپورا دن ہی گپ شپ چلتی رہتی۔ کچھ بھی نہیں نائمہ سوں سوں کرتی پاس سے گزری۔ شہیر بھی کمرے سے نکل آیا۔بس اسی بات کا تو جھگڑہے ا میرا،شہیر نے زور دے کر کہا۔’’یہ کونسی بات ہوئی کہ کچھ بھی کام نہ ہو ۔ ایسے ہی فالتو لیٹے لیٹے وقت کو ضا ئع کیا جائے‘‘ شہیر نے شکایتی لہجے میں کہا۔سلیم صاحب نے خاموشی سے نائمہ کے چہرے پر نظر ڈالی۔سوجی ہوئی آنکھیں پتا دے رہیں تھیں کہ وہ پھر سے اُداس ہے اور حسبِ معمول شہیر ہلکی پھلکی باتیں کر کے اُس کی اُداسی کو کم کرنے کی کوشش میں ہے۔’’نائمہ بیٹی ادھر آؤ ‘‘سلیم صاحب نے آواز دی ۔۔جی ابو! نائمہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اُن کے سامنے تھی۔ادھر آؤ۔۔بیٹھو۔شہیر نے فوراً صوفے پر اپنے چپل رکھ دئے اور نائمہ بے خیالی میں صوفے پر بیٹھ گئی۔شہیر اور سلیم صاحب دونوں ہی نے ایک زوردارقہقہہ لگایا۔نائمہ تھوڑی جھنپ سی گئی۔فوراً اُٹھی اورچپل کو اُس کی جگہ پر رکھ کر آگئی۔کیوں بھئی اتنی اُداسی کیوں ہے ؟سلیم صاحب نے اُس کو سینے سے لگایا۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔’’افوہ۔۔۔ یہ بڑی مصیبت ہوتی ہے کہ تم رو دیتی ہو فوراً۔ دیکھو توکیسی شہزادی لگ رہی ہو‘‘۔گلابی ناک کو چھوتے ہوئے انہوں نے مذاق کیا۔شہیر بھاگ کر گیا اور چھوٹا سا آئینہ اُٹھا لایا۔ یہ دیکھیں۔۔۔۔آ پی نائمہ کو واقعی ہنسی آنے لگی۔سلیم صاحب نے شہیرکے ہاتھ سے آئینہ لیا اور اپنے قریب کر کے نائمہ کو دکھانے لگے ۔ آئینے کے عکس میں نائمہ نمایاتھی جبکہ برابر میں سلیم صاحب کی شکل نظر آرہی تھی۔ سلیم صاحب نے اپنی بھنوؤں کو معمولی سی جنبش دی۔چلو بھئی آئینے سچ سچ بتاؤ:میں زیادہ خوبصورت ہوں یا نائمہ(سلیم صاحب بولے)۔شہیر کی ہنسی چھوٹ گئی۔سلیم صاحب نے بھویں ہلائیں۔نائمہ کو بھی ہنسی آگئی اور وہ ہنستی ہی چلتی گئی۔ بابا ۔۔۔آپ کو پتا ہے؟وہ ہنسنے کے بعد اب بالکل نارمل ہوگئی۔کیا بھئی۔۔۔سلیم صا حب نے تھوڑا فاصلہ کرکے اس کی طرف مڑتے ہوئے کہا۔ آپ کی بھنویں بہت خوبصورت ہیں۔نائمہ نے مسکرا کر کہا۔سلیم صاحب نے آئینہ قریب کیا اور ایک،دو بار اپنی بھنوؤں پر ہاتھ پھیرا۔ جگہ جگہ سے اڑی ہوئی،کٹ کے بیشمارنشانات کے ساتھ موٹی موٹی بھوؤیں۔ اچھااگر یہ آپ کہ رہی ہیں ہے تو مان لیتے ہیں۔سلیم صاحب نے بشاشت سے کہا۔آپی کی ایسی ہی باتوں پر جی جان سے قربان ہونے کا دل چاہتا ہے۔ شہیر نے ہنس ہنس کر کہنا شروع کیا۔کل ہی آپی میرے جلے ہوئے ہاتھ کی تعریف کررہی تھیں۔اچھا یہ تو بتائیے ایسی کیا خاص بات نظر آئی آپ کو ۔ سلیم صاحب نائمہ کے دوبارہ نارمل ہوجانے پر اخبار اُٹھانے لگے تھے ۔ بابا، خوبصورتی تو اِنسان کے اندر ہوتی ہے ناں! جی ہاں!بالکل ۔ سلیم صاحب ہمیشہ ہی ایسا کیا کرتے تھے۔ آپ کی بھوؤں کے ہلنے سے میں اپنا غم بالکل ہی بھول گئی ۔ تو آپ کی بھویں پیاری ہوئی،ناں! نائمہ نے سادگی سے کہا۔آں۔۔ ہاں، بالکل ٹھیک۔ بابا آپ بھی میری طرح۔۔۔۔ شہیر بابا کے ساتھ مزہ لے رہا تھا۔
زندگی میں خوبصورتی ہمارے قریب ہی ہوتی ہے۔مگر وہ جب تک ہمارے اندر نہیں ہوتی۔۔۔ہمیں نظر نہیں آتی۔بابا نے شفقت سے کہا۔ نائمہ بھی خوش ہوگئی۔لیکن بابا ابھی کسی اور اہم خیال میں گم نظر آرہے تھے۔ہم چیزوں کو باہر سے خوبصورت بنانے میں خود کو ہلکان کر دیتے ہیں مگریہ اہم نہیں ہے۔ شہیر بیٹا اِس بات کو سمجھو :وہ خوبصورت ہاتھ جو کسی کے کام نہ آسکیں اور وہ بدصورت (بدشکل)ہاتھ جو کسی بیمار کی دوا اور کھانے کا اہتمام کر سکیں۔۔۔اِن میں فرق ہے۔ہم بظاہر جس ہیّت ( شکل و صورت)میں پیدا کئے گئے ہی اُس کو بدلنے پر قادر نہیں لیکن ہم اپنے اَخلاق و کردار کو اِتنا خوبصورت اور پُرکشش بنانے پر پوری طرح قادر ہیں کہ لوگ ظاہر کو ہی بھول جائیں۔سمجھے آپ!!سلیم صاحب شہیر کو آسان لفظوں میں بتا رہے تھے۔
اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر بدصورت(بدشکل)چیز خوبصورت بن سکتی ہے شہیر مسکرایا ۔ جی ہاں۔۔۔!!اور یہ وہ خوبصورتی ہے جو آپ کے مرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گی۔بتاؤ کوئی ہو سکتا ہے ؟؟۔۔۔یہ وہ خوبصورتی ہے جس کی ہمارے پیارے آخری نبیﷺنے بھی تعلیم دی ہے۔۔۔ہے ناں اہم؟؟


ماحول بہت خوشگوار ہو چکا تھا۔دیکھا میں نے ٹھیک کہا تھا ،ناں۔۔نائمہ چپکی اورشہیرکے کان کھینچے۔ آپی۔۔آپی،میرے کان نہیں کھینچا کریں۔ پہلے ہی میں موٹا ہوں اور اگر کان بھی لمبے ہو گئے تو پھر سب ہاتھی کہہ کر چھیڑیں گے۔ سلیم صاحب بھی ہنسنے لگے اور دوسرا کان ہلکے سے کھینچ کر کہنے لگے:آیندہ جب ایک کان کھینچو تو دوسرا کان ضرورکھینچو تاکہ دونوں برابر ہو جائیں۔آ۔۔۔آآآ۔۔۔آآآآ( شہیر کا احتجاج فضا میں بلند ہوا)۔

(ختم شد)


 

اہم بات:- یہ کہانی میں نے خود تحریرکی ہے اور اس کا ایک ایک جملہ میرے پاس موجود ہے۔اس کی نقل بنانایابنوانا،اپنے نام سے چھاپنایاچھپوانا ،عنوان تبدیل کر کے چھاپنایاچھپوانا یا پھر ایسی کوئی ناجایز حرکت کرنا قانوناً و قطعاً جایز نہیں۔(عافیہ رحمت)