مصنفہ: عافیہ رحمت
ٹیلی فون بہت بڑی رحمت ہے اور بہت بڑی زحمت بھی۔اس بات کا اندازہ لگانے کے لئے میں آپ کو ایک واقعہ سناتی ہوں۔
ایک دفعہ ہمارے اسکول کی چھٹی تھی موسم سہانا تھااور مزاج بھی ٹھندا تھا۔ہم نے سوچا کہا آج کیوں نہ باورچی خانہ کو اپنی آمد کی خبر سنائیں یعنی کوئی مزے دار چیز بنائیں جو ہمیشہ یادگار رہے۔
میں نے جب کیلنڈرپر نظر دوڑائی تو مجھے تاریخ کا علم ہوا۔تاریخ کا علم ہوتے ہی ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہی کیوں کہ آج ہمارے لاڈلے بھائی جان کی سالگرہ تھی! ہمارے بھائی جان ذرا نخرے والے ہیں۔ کھانے میں نخرے دکھاناتو اُن کی بچپن کی عادت تھی اور تعریف کا ایک لفظ بھی اُن کی زبان پر نہیں آتا تھاتو اسی وجہ سے ہم نے سوچاکہ آج کوئی ایسی چیز بنانی چاہیے کہ جس کی تعریف ان کو کرنی ہی پڑجائے۔پہلے پہل سوچا کہ ”قورمہ“ پکایا جائے۔لیکن بھئی ہم تو بہت سہل پسند واقع ہوئے ہیں اور اتنی محنت ہماری نازک طبیعت پر سخت گراں گزری چنانچہ”بریانی“ بنانے کا خیال آیا۔لیکن چاول تو بھئی ہمیں بچپن سے ہی گیلے کھانے کے عادی ہیں۔
ان سب چیزوں کو چھوڑ کر ہم نے کیک بنانے کی ٹھانی۔ بڑی مشکل سے ایک ترکیب ہاتھ آئی۔اُس کے اجزاء پڑھتے ہی معلوم ہوا کہ صرف چینی ہمارے شریف باورچی خانے میں موجود ہے۔پھر خیال آیا کہ تمام اجزاء بھائی جان سے منگوائے جائیں اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ہمارے بھائی جان بہت نخرے والے ہیں اور بغیر معاوضے کے کوئی کام نہیں کرتے۔لیکن جب ہم نے اُن سے کہا کہ یہ چیزیں بہت سستی ہیں اور باآسانی مل جائیں گی۔تو وہ رضا مند ہوگئے۔
……٭……٭……٭……
تقریباً دوگھنٹی بعدجب وہ واپس آئے تو اُن کی حالت غایب دماغ پروفیسر کی سی لگ رہی تھی۔ہم نے دل تھام کر پوچھا:بھائی جان!”خیریت تو ہے“۔ہمارا یہ کہنا تھا کہ وہ پھٹ پڑے اور کہا:”یہ چیزیں بہت بہت۔۔۔۔۔۔ آسانی سے مل گئیں تھیں اور بہت بہت سستی تھیں“۔خیر ہم نے اُن کے ڈوبتے دل کو سہارا دیا کہ آپ کی محنت رایگانہیں جائے گی اور کیک انتہائی مزے دار ہوگا۔
ہم نے تمام کام انتہائی جاں فشانی سے سرانجام دئے اور ابھی ہم اسے اووّن(oven)میں رکھنے ہی والے تھے کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ہم نے اُسے نظرانداز کر کے کیک کو اووّن(oven)میں رکھا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بری طرح سے چیخی۔ہم نے دل میں موصوف کو بہت کوسا اور سوچا”رانگ نمبر“(wrong number)کہہ کر بند کر دیں گے۔
رسیور اُٹھایا تو ہمیں پتاچلا کہ ہماری جگری سہیلی کا برسوں بعد لاہور سے فون آیا ہے اُس کا نام سنتے ہی ہم دنیاومافیا سے بے خبرباتوں میں مصروف ہو گئے۔تھوڑی دیر بعد ایک لمحے کے لئے کیک کا خیال آیا جسے اووّن(oven)میں رکھنے کے بعد ہم بھول ہی گئے تھے،لیکن پھر سر جھٹک کر اور دروازے کی کنڈی لگا کرباتیں کرنے لگے اور باتوں کا ایک طویل سلسلہ چھڑ گیا۔
ابھی ہمیں باتیں کرتے ہوئے صرف دو گھنٹے ہوئے تھے کہ”امّی کے چیخنے کی آوازیں آنے لگیں“لیکن ہم اسے بھی نظرآنداز کرتے ہوئے زوروشور سے اپنی سہیلی کی باتوں میں مگن رہے۔(اور اپنی باتوں میں بھی)
جب ہمارے دروازے پر شدید قسم کی گولہ باری شروع ہوگئی۔اور اس گولہ باری سے ہمیں کیک کا خیال آیا۔ہم نے چندلفظوں میں اپنی سہیلی کو حالات کی نزاکت سے روشناس کرایااور خدا حافظ کر کے سلامتی کی دعا کرنے لگے کیونکہ گولہ باری شدت اختیار کر چکی تھی۔ ہم دروازہ کھول کر بستر پر دم سادھے نیم مردہ حالت میں لیٹ گئے(وہ تو شکر ہے ہماے کمرے کا ا دروازہ اندر کے بجائے باہرکو کھلتا تھا)۔تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور بھائی جان شدید غصے کی حالت میں برآمد ہوئے۔ہمارے جسم کا سارا خون خشک ہو چکا تھا اور چہرا سفیدجبکہ بھائی جان کا چہرہ آگ بگولا ہوا ہوا تھا۔اُس کے بعد بھائی جان نے ہماری جو درگت بنائی اُس کو اگر ہم راز ہی رکھیں تو اچھا ہے۔
اہم بات:- یہ کہانی میں نے خود تحریرکی ہے اور اس کا ایک ایک جملہ میرے پاس موجود ہے۔اس کی نقل بنانایابنوانا،اپنے نام سے چھاپنایاچھپوانا ،عنوان تبدیل کر کے چھاپنایاچھپوانا یا پھر ایسی کوئی ناجایز حرکت کرنا قانوناً و قطعاً جایز نہیں۔(عافیہ رحمت)